بنگلورو،25؍فروری(ایس او نیوز) ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ رام لنگا ریڈی نے ریاستی کابینہ میں عنقریب ممکنہ ردوبدل کے مرحلے میں انہیں وزارت سے بے دخل کئے جانے کی قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اگر انہیں وزارت چھوڑنے کی ہدایت دی تو وہ بغیر کسی مزاحمت کے وزارت چھوڑ دیں گے اور سرگرم سیاست سے کنارہ کش ہوجائیں گے، یا پھر اگر یہ ہدایت دی جائے کہ وزارت چھوڑ کر پارٹی کیلئے کام کریں تو پارٹی کیلئے کام کرنے بھی وہ تیار ہیں۔ رام لنگا ریڈی نے کہاکہ گووند راجو کے گھر پر چھاپے کے دوران محکمۂ انکم ٹیکس کی طرف سے ڈائری برآمد کئے جانے اور اس میں ان کا نام شامل ہونے کے متعلق خبریں بعید از حقیقت ہیں، اس ڈائری سے ان کا کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی انہوں نے کسی کو کوئی رقم ادا کی ہے۔ اسی لئے اس ڈائری میں ان کے نام کا تذکرہ بے بنیاد ہے۔ ان خبروں پر کہ کل ہونے والی کانگریس رابطہ کمیٹی میٹنگ میں وزیراعلیٰ سدرامیا اور اے آئی سی سی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ یہ طے کریں گے کہ کابینہ سے کم از کم 20وزراء کو بے دخل کیا جائے ، ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سدرامیا کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے چاہے اپنی وزارت میں رکھیں اور جسے چاہے نہیں۔ لیکن ان کا یہ ماننا ہے کہ موجودہ وزراء کو برقرار رکھتے ہوئے اگر آنے والے انتخابات کی حکمت عملی وضع کی جائے گی تو اس سے پارٹی کو زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔ رام لنگا ریڈی نے کہا کہ سرگرم سیاست میں انہوں نے کافی عرصہ گذارا ہے ، کافی برسوں تک انہیں اقتدار پر رہنے کا موقع ملاہے۔ پارٹی اگر اب بھی ان سے کہے کہ وزارت میں اب وہ بہت دن رہ چکے ہیں پارٹی کیلئے کام کریں تو پارٹی کیلئے کام کرنے پر وہ تیار ہیں، اگر یہ ہدایت ملی کہ وزارت سے استعفیٰ دے کر آرام کریں تو وہ سرگرم سیاست سے سنیاس بھی لینے کیلئے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔